بنگلورو،20؍مئی(ایس او نیوز) وزیراعلیٰ نے کووڈ لاک ڈاؤن سے متاثر ہونے والوں کے لئے 1250کروڑ روپئے مالی امداد پیکیج کا اعلان تو کیا ہے لیکن چاروں طرف سے اپوزیشن لیڈر اس پر تنقید کررہے ہیں۔اس پیکیج کے اعلان پر اپنا ردعمل ظاہر کرتے ہوئے کے پی سی سی صدر ڈی کے شیوکمار نے کہا کہ حکومت کے اس پیکیج کے اعلان سے ہم مطمئن نہیں ہیں کیونکہ پچھلے سال بھی کووڈ وباء کے دوران اسی طرح کے پیکیج کا اعلان کیاگیا تھا لیکن یہ رقم آج تک مستفیدین کو نہیں ملی۔اب جو اعلان کیا گیا ہے یہ رقم مستفیدین تک پہنچے گی اس کا ہمیں بھروسہ نہیں ہے۔انہوں نے کہا کہ 2ہزار، 3ہزار روپئے آج کے دور میں کچھ حیثیت نہیں رکھتے۔ کم از کم فی کس 10ہزار روپئے کا اعلان کیا جاتا تو بہتر تھا۔ انہوں نے کہا کہ یوں لگتا ہے کہ اپوزیشن کے دباؤ میں آ کر اس پیکیج کا اعلان کیا گیا ہے جو صرف کاغذات پر محدود رہے گا۔ انہوں نے ریاستی بی جے پی حکومت پر الزام لگایا کہ یہ حکومت کووڈ کی دوسری لہر سے نمٹنے میں مکمل طور پر ناکام ہوچکی ہے،بلکہ حکومت ہر محاذ پر ناکام ہے۔ لاک ڈاؤن کے دوران ہزاروں لوگوں نے اپنی ملازمت گنوا دی ہے کیا حکومت نے اس کا سروے کروایا؟ کسانوں نے جو زرعی قرضے لئے ہیں اس پر کورونا باء اور لاک ڈاؤن کے دوران کا سود معاف کروانے کیا حکومت نے بینکرس کے ساتھ میٹنگ کی؟ تعمیری مزدوروں کی شناخت کیسے کی جائے گی؟ یہ ایسے سوالات ہیں جن کا جواب حکومت کے پاس نہیں ہے۔انہوں نے کہا کہ اگر حکومت اس مرتبہ امدادی رقم واقعی مستفیدین کو پہنچانا چاہتی ہے تو یہ ذمہ داری گرام پنچایتوں، منسپل اداروں اور کارپوریشنوں کو دینی چاہئے۔انہوں نے کہا کہ وزیراعظم کو خود ریاستی حکومت کے انتظامیہ اور کارکردگی پر بھروسہ نہیں، اسی لئے وزیراعظم مودی نے کل ویڈیو کانفرنس کے ذیعہ ڈپٹی کمشنروں سے تبادلہ خیال کیا اور کووڈ سے نمٹنے کی ذمہ داری نہیں دی ہے۔
کووڈ پیکیج کھانے کے بغیر اچار کے مانند ہے: اپوزیشن کانگریس لیڈر سدارامیا نے کووڈ پیکیج کو کھانے کے بغیر اچار کے مانند قرار دیا ہے۔انہوں نے اپنا ردعمل ظاہر کرتے ہوئے کہا کہ پیکیج میں غریبوں کو کم از کم دس کلو چاول اور متاثرین کو فی کس10ہزار روپئے کا اعلان کیا جانا تھا۔انہوں نے کووڈ لاک ڈاؤن کے متاثرین کے لئے مناسب پیکیج کا اعلان کرکے مکمل لاک ڈاؤن کرنے کا مطالبہ کیا۔اپنی رہائش گاہ پر نامہ نگاروں سے بات کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ اس پیکیج کے اعلان سے قبل وزیراعلیٰ ایڈی یورپا کو پڑوسی ریاستوں کے پیکیج کا جائزہ لینا چاہئے تھا۔ کیا کرناٹک پڑوسی ریاستوں سے کمتر اور کمزور ہے؟ وزیراعلیٰ نے 1250کروڑ روپئے کا پیکیج کہا ہے لیکن انہوں نے خود جو اعداد و شمار جاری کئے ہیں اس کا حساب کریں تو یہ صرف 1111.82کروڑ روپئے ہوتے ہیں۔ تعمیری مزدوروں کے لئے 494کروڑ امداد کا اعلان کیا ہے لیک اتنی رقم تعمیری مزدوروں میں کیسے تقسیم کی جائے گی، اس کا کوئی منصوبہ نہیں۔انہوں نے کہا کہ پچھلے سال بھی ایڈی یورپا حکومکت نے 2100کروڑ روپئے پیکیج کا اعلان کیا تھا جس میں 850کروڑ روپئے تعمیری مزدوروں میں تقسیم کرنے کی بات کہی گئی تھی، یہ سفید جھوٹ ہے۔ کہاں کے اور کن تعمیری مزدوروں میں اتنی بڑی رقم تقسیم کی گئی آج تک پتہ نہیں۔انہوں نے کہا کہ کووڈ سے متعلق انہوں نے اب تک وزیراعلیٰ کو 12خطوط لکھے لیکن اب تک ایک کا بھی جواب دینے کی وزیراعلیٰ کو فرصت نہیں ملی۔ اس سے ہم یہ سوچنے پر مجبور ہیں کہ ریاست میں حکومت سرگرم ہے یا نہیں؟
نام بڑے درشن چھوٹے: ریاست کرناٹک کا نام پورے ملک میں مشہور ہے لیکن وزیراعلیٰ بی ایس ایڈی یورپا نے لاک ڈاؤن متاثرین کے لئے جو خصوصی امدادی پیکیج کا اعلان کیا ہے وہ نام بڑے درشن چھوٹے کے مترادف ہے۔جے ڈی ایس لیڈر ایچ ڈی کمارسوامی نے پیکیج پر ان خیالات کا اظہار کیا۔اس سلسلہ میں سابق وزیراعلیٰ نے اپنے ٹوئٹ میں کہا ہے کہ جہاں عوام کے مفاد میں لاک ڈاؤن کا اعلان ہونا چاہئے وہیں عوام کے لئے ایک اچھے پیکیج کا بھی اعلان کیا جانا چاہئے۔جے ڈی ایس کے بار بار مطالبہ کے بعد حکومت نے اس پیکیج کا اعلان کیا ہے۔ لیکن ساڑھے 6کروڑ آبادی والی اس ریاست کے لئے بہت ہی کم پیکیج کا اعلان کرنا ریاستی حکومت کو زیب نہیں دیتا۔یہ ایک غیر سانٹفک اور غیر اطمینان بخش پیکیج ہے۔ انہوں نے بتایا کہ لاک ڈاؤن کرنے کے سلسلہ میں میں نے مارچ میں ہی مشورہ دیاتھا لیکن نہیں کیا گیا لیکن کیرلا میں مارچ ہی میں لاک ڈؤن کیا گیا۔20ہزار کروڑ پیکیج کا بھی اعلان کیاگیا۔ کیرلا جیسی چھوٹی ریاست اتنے کروڑ روپئے کے پیکیج کا اعلان کرسکتی ہے تو کرناٹک کیوں نہیں کرسکتا؟ کیا کرناٹک کے لئے1200کروڑ کا پیکیج کافی ہے؟